newborn carenewborn jaundicebilirubinphototherapybreastfeedingNICUpediatrician

نوزائیدہ بچوں میں یرقان: والدین کو کب پریشان ہونا چاہیے؟

نوزائیدہ بچوں میں یرقان عام ہے، لیکن کچھ علامات فوری طور پر بچوں کے ڈاکٹر کو دکھانے کی ضرورت ظاہر کرتی ہیں۔ اس مضمون میں یرقان کی وجوہات، خطرے کی علامات، دودھ پلانے، بلیروبن ٹیسٹ اور فوٹو تھراپی کے بارے میں آسان معلومات دی گئی ہیں۔

Dr. Zahoor Hussain Daraz
اس صفحے پر
  1. اہم نکات
  2. نوزائیدہ بچے میں یرقان کیا ہوتا ہے؟
  3. نوزائیدہ بچوں میں یرقان کیوں ہوتا ہے؟
  4. والدین کو کون سی علامات نظر آ سکتی ہیں؟
  5. بچوں کے ڈاکٹر سے فوری کب رابطہ کرنا چاہیے؟
  6. یرقان کی جانچ کیسے کی جاتی ہے؟
  7. کیا ماں کا دودھ بند کرنا چاہیے؟
  8. عام سوالات
  9. ذرائع
نوزائیدہ بچوں میں یرقان: والدین کو کب پریشان ہونا چاہیے؟
Dr. Zahoor Hussain Daraz

Dr. Zahoor Hussain Daraz

کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن اور نیونیٹولوجسٹ

20+ سال کا طبی تجربہ · طبی طور پر نظرثانی شدہ

اہم نکات

  • نوزائیدہ بچوں میں یرقان عام ہے، مگر اس کی نگرانی ضروری ہے۔
  • اگر یرقان پہلے 24 گھنٹوں میں ظاہر ہو یا تیزی سے بڑھے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
  • بلیروبن کی سطح ڈاکٹر کے مشورے سے چیک کروانی چاہیے؛ صرف جلد کا رنگ کافی نہیں۔
  • اکثر بچوں میں ماں کا دودھ جاری رکھا جا سکتا ہے۔
  • براہِ راست دھوپ فوٹو تھراپی کا محفوظ متبادل نہیں ہے۔

نوزائیدہ بچے میں یرقان کیا ہوتا ہے؟

نوزائیدہ بچے میں یرقان اس وقت ہوتا ہے جب بچے کی جلد اور آنکھوں میں پیلا پن نظر آئے۔ یہ عموماً بلیروبن نامی مادے کے بڑھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بلیروبن خون کے پرانے سرخ خلیات ٹوٹنے کے بعد بنتا ہے۔ پیدائش کے بعد بچے کا جگر آہستہ آہستہ اس مادے کو جسم سے خارج کرنا شروع کرتا ہے، لیکن شروع کے دنوں میں جگر مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا۔

اکثر بچوں میں یرقان ہلکا ہوتا ہے اور مناسب دودھ، نگرانی اور فالو اَپ سے بہتر ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر بلیروبن بہت زیادہ بڑھ جائے تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں، کم وزن بچوں، کم دودھ پینے والے بچوں یا خون کے گروپ کے مسئلے والے بچوں میں۔

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کیوں ہوتا ہے؟

پیدائش کے بعد بچے کا جسم بلیروبن کو جگر، پیشاب اور پاخانے کے ذریعے خارج کرتا ہے۔ شروع کے دنوں میں یہ عمل سست ہو سکتا ہے۔ اگر بچہ دودھ کم پی رہا ہو، پاخانہ کم آ رہا ہو، بچہ وقت سے پہلے پیدا ہوا ہو، یا ماں اور بچے کے خون کے گروپ میں فرق ہو تو یرقان زیادہ ہو سکتا ہے۔

اپنے بچے کی علامات کے بارے میں فکر مند ہیں؟

مضمون عمومی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ذاتی طبی مشورے کے لیے ڈاکٹر سے مشاورت بک کریں۔

مشاورت بک کریں

والدین کو کون سی علامات نظر آ سکتی ہیں؟

  • چہرے، سینے، پیٹ، بازوؤں، ٹانگوں یا آنکھوں میں پیلا پن
  • بچے کا بہت زیادہ سونا یا مشکل سے جاگنا
  • دودھ کم پینا یا کمزور طریقے سے چوسنا
  • پیشاب کم آنا
  • یرقان کا کم ہونے کے بجائے بڑھنا

بچوں کے ڈاکٹر سے فوری کب رابطہ کرنا چاہیے؟

اگر بچے میں یرقان پیدائش کے پہلے 24 گھنٹوں میں ظاہر ہو، بچہ بہت زیادہ پیلا ہو جائے، دودھ نہ پی رہا ہو، بہت سست ہو، بخار ہو، تیز یا غیر معمولی رونا ہو، پیشاب کم آ رہا ہو، یا پیلا پن تیزی سے بڑھ رہا ہو تو فوراً بچوں کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ قبل از وقت یا کم وزن بچوں میں یرقان کو خاص طور پر سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔

یرقان کی جانچ کیسے کی جاتی ہے؟

بچوں کا ڈاکٹر بچے کا معائنہ کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق بلیروبن کی سطح جلد کے آلے یا خون کے ٹیسٹ سے چیک کی جاتی ہے۔ علاج کا فیصلہ بچے کی عمر، پیدائش کے ہفتوں، بلیروبن کی سطح، دودھ پینے کی حالت اور دیگر خطرے کے عوامل کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ صرف جلد کا رنگ دیکھ کر یرقان کی شدت کا اندازہ لگانا کافی نہیں ہوتا۔

کیا ماں کا دودھ بند کرنا چاہیے؟

اکثر حالات میں ماں کا دودھ جاری رکھا جا سکتا ہے اور جاری رکھنا چاہیے۔ بار بار دودھ پلانے سے بچے کو پاخانہ اور پیشاب بہتر آتا ہے، جس سے بلیروبن جسم سے نکلنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر بچہ دودھ صحیح نہیں پی رہا تو ڈاکٹر بچے کی حالت کے مطابق ماں کا نکالا ہوا دودھ، ڈونر دودھ یا فارمولا دودھ کا مشورہ دے سکتا ہے۔

فوٹو تھراپی کیا ہے؟

فوٹو تھراپی ایک محفوظ طبی علاج ہے جس میں بچے کو خاص نیلی روشنی کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ اس دوران بچے کی آنکھوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ روشنی بلیروبن کو ایسی شکل میں بدلنے میں مدد دیتی ہے جو پیشاب اور پاخانے کے ذریعے جسم سے نکل سکتی ہے۔

کیا دھوپ یرقان کا علاج ہے؟

براہِ راست دھوپ نوزائیدہ بچے کے یرقان کا محفوظ یا قابلِ اعتماد علاج نہیں ہے۔ دھوپ سے بچے کو گرمی لگ سکتی ہے، پانی کی کمی ہو سکتی ہے اور جلد جل سکتی ہے۔ اگر بچے کو علاج کی ضرورت ہو تو ڈاکٹر کی نگرانی میں فوٹو تھراپی زیادہ محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔

والدین گھر میں بچے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

  • ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق بچے کو بار بار دودھ پلائیں
  • پیشاب اور پاخانے کی تعداد پر نظر رکھیں
  • بلیروبن کے فالو اَپ ٹیسٹ وقت پر کروائیں
  • پیلا پن بڑھنے، دودھ کم پینے یا غیر معمولی نیند پر فوراً توجہ دیں
  • گھریلو ٹوٹکوں، جڑی بوٹیوں یا براہِ راست دھوپ کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں

ڈاکٹر ظہور حسین دراز کا پیغام

نوزائیدہ بچوں میں یرقان عام ہے، مگر اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت معائنہ، بلیروبن کی جانچ، مناسب دودھ، فالو اَپ اور ضرورت پڑنے پر فوٹو تھراپی بچے کو پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔ اگر آپ کے بچے کی آنکھیں پیلی ہوں، جلد کا پیلا پن بڑھ رہا ہو، بچہ دودھ کم پی رہا ہو یا غیر معمولی طور پر سست ہو تو فوری طور پر بچوں کے ڈاکٹر یا NICU اسپیشلسٹ سے مشورہ کریں۔

طبی وضاحت: یہ مضمون صرف تعلیمی معلومات کے لیے ہے۔ یہ ڈاکٹر کے معائنے یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔ ہر نوزائیدہ بچے کا معائنہ مستند بچوں کے ڈاکٹر سے کروانا ضروری ہے۔

مفت نوزائیدہ نگہداشت گائیڈ

روزمرہ نگہداشت، ویکسین اور خطرے کی علامات کے لیے مختصر اور قابلِ عمل رہنمائی۔

آپ کا ای میل صرف صحت سے متعلق مفید رہنمائی کے لیے استعمال ہوگا۔

عام سوالات

کیا نوزائیدہ بچوں میں یرقان عام ہے؟
جی ہاں، بہت سے نوزائیدہ بچوں میں پہلے چند دنوں میں ہلکا یرقان ہو سکتا ہے، لیکن اگر پیلا پن واضح ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
یرقان کب خطرناک ہو سکتا ہے؟
اگر یرقان پیدائش کے پہلے 24 گھنٹوں میں ظاہر ہو، تیزی سے بڑھے، بچہ دودھ کم پیے، بہت زیادہ سوئے یا بخار ہو تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
کیا یرقان میں ماں کا دودھ جاری رکھا جا سکتا ہے؟
اکثر حالات میں ماں کا دودھ جاری رکھا جاتا ہے۔ بار بار دودھ پلانے سے بلیروبن جسم سے نکلنے میں مدد ملتی ہے۔
فوٹو تھراپی کیا ہوتی ہے؟
فوٹو تھراپی خاص نیلی روشنی کا علاج ہے جو بلیروبن کم کرنے کے لیے ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔
کیا دھوپ سے بچے کا یرقان ٹھیک ہو سکتا ہے؟
براہِ راست دھوپ محفوظ علاج نہیں ہے۔ اس سے بچے کو گرمی، پانی کی کمی یا جلد جلنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
یہ مضمون صرف عمومی تعلیمی رہنمائی کے لیے ہے اور طبی مشاورت کا متبادل نہیں۔
Dr. Zahoor Hussain Daraz

تحریر

Dr. Zahoor Hussain Daraz

سینئر کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن اور NICU اسپیشلسٹ، میڈیکیئر سپر اسپیشلٹی ہسپتال، سرینگر۔

طبی نظرثانی: Dr. Zahoor Hussain Daraz

ذرائع

پروفائل دیکھیں

Discussion (0)

Leave a Comment

متعلقہ مضامین

بلاگز پر واپس جائیں