بچوں کے کلینیکل ٹیسٹ اور اسکریننگ گائیڈ

بچوں کے طبی ٹیسٹ (0 سے 18 سال): والدین کے لیے رہنما گائیڈ

یہ جامع گائیڈ والدین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ پیدائش سے لے کر 18 سال تک کن ٹیسٹوں کی ضرورت ہو سکتی ہے، وہ کیا جانچتے ہیں اور کیوں اہم ہیں۔ یہ ایک عمومی معلوماتی گائیڈ ہے۔ بچے کے لیے کون سے ٹیسٹ ضروری ہیں، اس کا فیصلہ صرف معالج ڈاکٹر کرتے ہیں۔

نوزائیدہ بچوں کے ٹیسٹ (0 سے 28 دن)

0 سے 28 دن
نوزائیدہ بچے کے لیے کون سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں؟

نوزائیدہ بچے کے ٹیسٹ پیدائش کے فوراً بعد اس کی بنیادی صحت کو جانچتے ہیں۔ ان میں اپگار اسکور (Apgar score)، وزن، لمبائی، سر کا گھیراؤ، سماعت کا ٹیسٹ، پیدائشی دل کی بیماری کی اسکریننگ، آنکھوں کا ریڈ ریفلیکس معائنہ، کولہے کا معائنہ، اور یرقان کے لیے بلیروبن چیک شامل ہیں۔ خطرے والے بچوں کے لیے بلڈ شوگر یا بلڈ گروپ اور کومبس ٹیسٹ، اور نوزائیدہ میٹابولک اسکرین کی جاتی ہے۔

اہم نوٹ: ٹیسٹوں کا حتمی شیڈول گائیڈ لائنز اور آپ کے بچے کی صحت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر کے مشورے اور قومی حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول پر عمل کریں۔

اپگار اسکور (Apgar Score)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

پیدائش کے فوراً بعد بچے کی عمومی حالت کا فوری جائزہ

یہ کیوں اہم ہے:

پیدائش کے فوراً بعد بچے کی جسمانی حالت اور سانس لینے کا فوری معائنہ کرتا ہے۔

پیدائش کے فوراً بعد

وزن، لمبائی، اور سر کا گھیراؤ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

نشوونما کی بنیادی پیمائش (Growth baseline)

یہ کیوں اہم ہے:

بچے کی ابتدائی پیمائش ریکارڈ کرتا ہے تاکہ آئندہ نشوونما کا موازنہ کیا جا سکے۔

پیدائش پر اور نوزائیدہ دور کے معائنوں میں

نوزائیدہ میٹابولک اسکرین (خون کا ٹیسٹ)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

پیدائشی ہائپوتھائیرائیڈزم (TSH)، پی کے یو (PKU)، سی اے ایچ (CAH)، گلیکٹوسیمیا اور جی 6 پی ڈی (G6PD) جیسے امراض کی اسکریننگ۔ ٹیسٹ کی دستیابی اسکریننگ پروگرام پر منحصر ہوتی ہے، لہٰذا کلینک سے معلوم کریں۔

یہ کیوں اہم ہے:

دستیاب پروگرام کے تحت پیدائشی میٹابولک خرابیوں جیسے تھائرائیڈ اور اینزائم کے نقائص کی بروقت نشاندہی کرتا ہے۔

طریقہ کار:

خون کا قطرہ (Blood spot test)

نوزائیدہ بچے (دستیابی کے لیے کلینک سے رابطہ کریں)

سماعت کی اسکریننگ (OAE / ABR)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

OAE یا ABR کے ذریعے کانوں کی سننے کی صلاحیت کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

دیکھتا ہے کہ نوزائیدہ بچہ آوازوں کو درست طریقے سے سن رہا ہے یا نہیں۔

ہسپتال سے چھٹی سے پہلے

پیدائشی دل کی بیماری کی اسکریننگ (CCHD)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

پلس آکسیمیٹری کے ذریعے شدید پیدائشی امراض قلب کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

پلس آکسیمیٹری سے خون میں آکسیجن چیک کر کے دل کی بیماریوں کی اسکریننگ کرتا ہے۔

طریقہ کار:

ہاتھ اور پاؤں پر پلس آکسیمیٹری سینسر

پیدائش کے ابتدائی دنوں میں

ریڈ ریفلیکس آنکھوں کا معائنہ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

بچے کی آنکھوں کا ریڈ ریفلیکس (Red reflex)

یہ کیوں اہم ہے:

آنکھ کے پردے سے روشنی کے انعکاس کا معائنہ کر کے آنکھ کی صفائی جانچتا ہے۔

نوزائیدہ دور کا معائنہ

کولہے کا معائنہ (Hip Examination)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

کولہے کے جوڑوں کا کلینیکل معائنہ

یہ کیوں اہم ہے:

کولہے کے جوڑ کی درست ساخت اور استحکام کی جانچ کرتا ہے۔

معمول کا نوزائیدہ معائنہ

یرقان کے لیے بلیروبن چیک

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

یرقان (Jaundice) کا جائزہ لینے کے لیے بلیروبن کی مقدار

یہ کیوں اہم ہے:

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کی شدت کو جانچنے کے لیے بلیروبن چیک کرتا ہے۔

یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر یا رسک والے بچوں میں

بلڈ گلوکوز (Blood Glucose)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں شوگر کی سطح

یہ کیوں اہم ہے:

خطرے والے بچوں میں شوگر کی مقدار چیک کرتا ہے۔

اگر بچے کو خطرہ ہو (مثلاً کم پیدائشی وزن، ذیابیطس کی شکار ماں)

بلڈ گروپ اور کومبس ٹیسٹ (Coombs Test)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

بلڈ گروپ اور اینٹی باڈیز کی عدم مطابقت کا جائزہ

یہ کیوں اہم ہے:

ماں اور بچے کے خون کے باہمی تعامل اور یرقان کے اسباب کی جانچ کرتا ہے۔

اگر ماں کا بلڈ گروپ O یا Rh-Negative ہو

شیرخوارگی سے 5 سال تک

1 ماہ سے 5 سال
شیرخوارگی سے 5 سال تک کون سے ٹیسٹ ہوتے ہیں؟

شیرخوارگی سے 5 سال تک بچوں کی نشوونما اور سنگ میل پر نظر رکھی جاتی ہے۔ ان میں ہر وزٹ پر گروتھ چارٹ پر پیمائش، ذہنی و جسمانی نشوونما کی اسکریننگ (Denver, ASQ)، آٹزم اسکریننگ (M-CHAT 18 تا 24 ماہ پر)، خون کی کمی کے لیے ہیموگلوبن اور فیریٹن (9 تا 12 ماہ)، نظر اور سماعت، 3 سال سے بلڈ پریشر، دانتوں کا معائنہ، اور ضرورت پر لیڈ ٹیسٹ شامل ہیں۔

اہم نوٹ: ٹیسٹوں کا حتمی شیڈول گائیڈ لائنز اور آپ کے بچے کی صحت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر کے مشورے اور قومی حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول پر عمل کریں۔

گروتھ چارٹ پر وزن، قد اور سر کا گھیراؤ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

ہر وزٹ پر گروتھ چارٹ پر نشوونما کی پیمائش

یہ کیوں اہم ہے:

بچے کی جسمانی نشوونما اور رفتار کا مسلسل ریکارڈ رکھتا ہے۔

ہر کلینک وزٹ پر

نشوونما کی اسکریننگ (Denver, ASQ)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

سیکھنے اور حرکات کے سنگ میل کا معائنہ

یہ کیوں اہم ہے:

حرکات و سکنات، بول چال اور سماجی رابطے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیتا ہے۔

شیرخوارگی سے 5 سال تک کے معمول کے معائنے

آٹزم اسکریننگ (M-CHAT)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

ایم چیٹ (M-CHAT) کے ذریعے آٹزم سپیکٹرم کی اسکریننگ

یہ کیوں اہم ہے:

ابتدائی عمر میں بچے کے سماجی اور رابطے کے رویوں کا جائزہ لیتا ہے۔

18 سے 24 ماہ کی عمر میں

ہیموگلوبن اور فیریٹن (خون کی کمی کی جانچ)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

ہیموگلوبن اور فیریٹن کے ذریعے آئرن کے ذخائر اور اینیمیا کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

خون کے سرخ خلیات اور جسم میں آئرن کے ذخائر کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تقریباً 9 سے 12 ماہ کی عمر میں؛ خطرے کے عوامل ہوں تو دوبارہ

بینائی اور سماعت کی جانچ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

دیکھنے اور سننے کی بنیادی صلاحیت

یہ کیوں اہم ہے:

بچے کی بصارت اور سماعت کے معمول کے کام کاج کو دیکھتا ہے۔

معمول کے کلینیکل معائنے

بلڈ پریشر کی جانچ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

بلڈ پریشر کی سطح

یہ کیوں اہم ہے:

بچے کے بلڈ پریشر کی نارمل حد کا معمول کے مطابق معائنہ کرتا ہے۔

3 سال کی عمر سے شروع

دانتوں کا معائنہ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

دانتوں کی صحت اور مسوڑھوں کی حالت

یہ کیوں اہم ہے:

ابتدائی دانتوں کی صفائی اور ان کی ساخت کا جائزہ لیتا ہے۔

معمول کا طبی وزٹ

لیڈ (سیسہ) لیول ٹیسٹ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں لیڈ کی مقدار

یہ کیوں اہم ہے:

اگر ماحول میں سیسے کے اثرات کا خطرہ ہو تو خون میں لیڈ چیک کرتا ہے۔

صرف ان بچوں کے لیے جہاں سیسے کے خطرات موجود ہوں

6 سے 12 سال کے بچے

6 سے 12 سال
6 سے 12 سال کے بچوں کے لیے کون سے ٹیسٹ ہوتے ہیں؟

اسکول جانے والے بچوں (6 تا 12 سال) کے لیے جسمانی پیمائش، نظر اور سماعت کے چیک اپ شامل ہیں۔ قد، وزن، بی ایم آئی (BMI)، بلڈ پریشر، بینائی و سماعت، ریڑھ کی ہڈی کی جانچ (تقریباً 10 سال سے)، 9 تا 11 سال میں ایک بار لپڈ پروفائل، اور زیادہ وزن والے بچوں میں شوگر کی اسکریننگ کی جاتی ہے۔

اہم نوٹ: ٹیسٹوں کا حتمی شیڈول گائیڈ لائنز اور آپ کے بچے کی صحت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر کے مشورے اور قومی حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول پر عمل کریں۔

قد، وزن، بی ایم آئی (BMI) اور بلڈ پریشر

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

جسمانی نشوونما، باڈی ماس انڈیکس اور بلڈ پریشر

یہ کیوں اہم ہے:

اسکول کی عمر میں عمومی جسمانی نشوونما اور دل کی صحت کا جائزہ لیتا ہے۔

معمول کے سالانہ معائنے

بینائی اور سماعت

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

آنکھوں کی بصارت اور سننے کی صلاحیت

یہ کیوں اہم ہے:

اسکول میں پڑھائی اور روزمرہ زندگی کے لیے نظر اور سماعت کی جانچ کرتا ہے۔

معمول کے کلینیکل معائنے

ریڑھ کی ہڈی کی جانچ (Scoliosis Check)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

ریڑھ کی ہڈی کا جھکاؤ اور ساخت

یہ کیوں اہم ہے:

تیزی سے بڑھتی عمر میں ریڑھ کی ہڈی کے خمیدہ ہونے کا جائزہ لیتا ہے۔

تقریباً 10 سال کی عمر سے

لپڈ اسکریننگ (کولیسٹرول ٹیسٹ)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں کولیسٹرول اور چربی کی مقدار

یہ کیوں اہم ہے:

خون میں چربی اور کولیسٹرول کی ابتدائی تشخیص کرتا ہے۔

9 سے 11 سال کی عمر میں ایک بار، یا خاندانی ہسٹری پر اس سے پہلے

ذیابیطس (شوگر) کی اسکریننگ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں شوگر کی سطح

یہ کیوں اہم ہے:

زیادہ وزن والے بچوں میں شوگر کی سطح اور خطرات کی جانچ کرتا ہے۔

زیادہ وزن والے بچوں میں جن میں خطرے کے عوامل ہوں

نوعمر بچے (12 سے 18 سال)

12 سے 18 سال
نوعمر بچوں (12 تا 18 سال) کے لیے کون سے اسکریننگ ٹیسٹ ضروری ہیں؟

نوعمر بچوں کے لیے بی ایم آئی (BMI)، بلڈ پریشر، بصارت، سماعت، ریڑھ کی ہڈی اور نشے کے رجحان کی جانچ شامل ہے۔ ذہنی صحت اور موڈ کے لیے PHQ-A اسکریننگ کی جاتی ہے۔ حیض شروع ہونے والی لڑکیوں میں ہیموگلوبن، 17 تا 18 سال پر دوبارہ لپڈ اسکریننگ، اور کلینیکل ضرورت پر ہی ایچ آئی وی / ایس ٹی آئی اسکریننگ کی جاتی ہے۔

اہم نوٹ: ٹیسٹوں کا حتمی شیڈول گائیڈ لائنز اور آپ کے بچے کی صحت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر کے مشورے اور قومی حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول پر عمل کریں۔

بی ایم آئی اور بلڈ پریشر

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

باڈی ماس انڈیکس اور بلڈ پریشر کی پیمائش

یہ کیوں اہم ہے:

نوعمری میں جسمانی وزن کے توازن اور بلڈ پریشر پر نظر رکھتا ہے۔

معمول کے طبی دورے

ڈپریشن اور اینگزائٹی اسکریننگ (PHQ-A)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

نوعمروں کے لیے موڈ اور ذہنی صحت کا اسکریننگ سوالنامہ (PHQ-A)

یہ کیوں اہم ہے:

نوعمری میں اداسی، ذہنی تناؤ اور موڈ کی تبدیلیوں کا جائزہ لیتا ہے۔

نوعمروں کے روٹین معائنے

ہیموگلوبن ٹیسٹ (خون کی کمی)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں ہیموگلوبن کی مقدار

یہ کیوں اہم ہے:

ماہواری شروع ہونے پر خون کی کمی اور اینیمیا کی بروقت جانچ کرتا ہے۔

حیض شروع ہونے والی لڑکیوں میں

دوبارہ لپڈ اسکریننگ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں کولیسٹرول اور چربی کی سطح

یہ کیوں اہم ہے:

بلوغت کے آخری مرحلے میں دل کی صحت اور کولیسٹرول کا دوبارہ معائنہ کرتا ہے۔

17 سے 18 سال کی عمر میں

ایچ آئی وی اور ایس ٹی آئی اسکریننگ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

مخصوص وائرل اور جنسی امراض کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

طبی ضرورت اور کلینیکل ہسٹری کی بنیاد پر مخصوص انفیکشنز کا معائنہ کرتا ہے۔

صرف اس وقت جب طبی طور پر ضروری سمجھا جائے

بینائی، سماعت، ریڑھ کی ہڈی اور نشہ آور اشیاء کی جانچ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

نظر، کان، کمر کی سیدھ اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کی اسکریننگ

یہ کیوں اہم ہے:

نوعمروں کی مجموعی جسمانی صحت، طرزِ زندگی اور عادات کا جامع جائزہ لیتا ہے۔

نوعمری کے معمول کے طبی معائنے

جب بچہ بیمار ہو

ڈاکٹر کے تجویز کردہ بنیادی ٹیسٹ
جب بچہ بیمار ہو تو کون سے بنیادی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں؟

بچے کی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر علامات دیکھ کر بنیادی ٹیسٹ لکھتے ہیں۔ ان میں انفیکشن کے لیے CBC، CRP یا پروکیلسیٹونن، بلڈ شوگر اور الیکٹرولائٹس، بغیر واضح وجہ کے بخار میں پیشاب کا ٹیسٹ و کلچر، نمونیا کے شبہ میں سینے کا ایکسرے، پیٹ یا موسم کے مطابق ملیریا و ڈینگی ٹیسٹ، اور سیپسس کے شبہ میں بلڈ کلچر شامل ہیں۔

سی بی سی (CBC)، سی آر پی (CRP) اور پروکیلسیٹونن

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون کے خلیات اور انفیکشن کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

خون کے سفید و سرخ خلیات اور جسم میں انفیکشن کی شدت کا جائزہ لیتا ہے۔

جب بچہ شدید بیمار ہو اور انفیکشن کی جانچ درکار ہو

بلڈ گلوکوز اور الیکٹرولائٹس

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

شوگر اور نمکیات (سوڈیم، پوٹاشیم وغیرہ)

یہ کیوں اہم ہے:

بیماری اور الٹی دست کے دوران پانی اور نمکیات کے توازن کو جانچتا ہے۔

جب بچہ بیمار ہو یا پانی کی کمی ہو

پیشاب کا روٹین، مائیکرواسکوپی اور کلچر

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

پیشاب کا معائنہ اور جراثیم کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

جب بخار کی واضح وجہ نہ مل رہی ہو تو پیشاب کے انفیکشن کی تصدیق کرتا ہے۔

بغیر واضح وجہ کے بخار کی صورت میں

سینے کا ایکسرے (Chest X-Ray)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

پھیپھڑوں اور سینے کی تصویر

یہ کیوں اہم ہے:

پھیپھڑوں کے انفیکشن یا نمونیا کی تشخیص کے لیے سینے کا جائزہ لیتا ہے۔

نمونیا یا سانس کی تکلیف کے شبہ میں

اسٹول ٹیسٹ؛ ملیریا یا ڈینگی ٹیسٹ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

پاخانے کا معائنہ؛ علاقے کے خطرات کے تحت ملیریا یا ڈینگی کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

پیٹ کے انفیکشن یا مچھروں سے پھیلنے والے امراض کی فوری جانچ کرتا ہے۔

علاقائی صورتحال اور علامات کی مناسبت سے

بلڈ کلچر (Blood Culture)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں بیکٹیریا اور انفیکشن کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

خون کے اندر شدید بیکٹیریل انفیکشن کی تصدیق کرتا ہے۔

اگر سیپسس (خون کے شدید انفیکشن) کا شبہ ہو

این آئی سی یو (نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت)

نوزائیدہ آئی سی یو
این آئی سی یو (NICU) میں کون سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں؟

این آئی سی یو میں داخل کمزور یا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے خصوصی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان میں سیپسس جانچ (CBC, CRP, بلڈ کلچر، لمبر پنکچر ضرورت پر)، یرقان کے بلیروبن ٹیسٹ، بلڈ گیس، شوگر، الیکٹرولائٹس، جگر و گردے کے ٹیسٹ، ایکسرے، دماغ کا الٹراساؤنڈ، دل کا ایکو، آنکھوں کی ROP اسکریننگ اور مسلسل مانیٹرنگ شامل ہے۔

سیپسس ورک اپ (Sepsis Workup)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

سی بی سی، سی آر پی، بلڈ کلچر اور ضرورت پڑنے پر لمبر پنکچر

یہ کیوں اہم ہے:

این آئی سی یو میں نوزائیدہ بچوں کے شدید انفیکشن کی مکمل چھان بین کرتا ہے۔

انفیکشن کے خطرے سے دوچار نوزائیدہ بچے

یرقان کا معائنہ (ٹوٹل اور ڈائریکٹ بلیروبن)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

ٹوٹل اور ڈائریکٹ بلیروبن؛ فوٹوتھراپی یا ایکسچینج ٹرانسفیوژن کا فیصلہ پروٹوکول کے مطابق وزن اور عمر دیکھ کر کیا جاتا ہے

یہ کیوں اہم ہے:

یرقان کی شدت کو جانچ کر رہنما پروٹوکول کے تحت فوٹوتھراپی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

یرقان کے شکار نوزائیدہ بچے

بلڈ گیس، شوگر، سوڈیم، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں گیسز، شوگر اور تمام اہم الیکٹرولائٹس کی جانچ

یہ کیوں اہم ہے:

سانس کے تبادلے، تیزابیت، شوگر اور ضروری نمکیات کی مستقل نگرانی کرتا ہے۔

این آئی سی یو کے زیرِ علاج بچے

گردے، جگر اور خون کے جمنے کے ٹیسٹ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

گردے کے افعال، جگر کے خامرے اور بلڈ کلاٹنگ پروفائل

یہ کیوں اہم ہے:

اہم اندرونی اعضاء اور خون کے جمنے کی صلاحیت کا کلینیکل معائنہ کرتا ہے۔

طبی ضرورت کے تحت این آئی سی یو کے مریض

امیجنگ (سینے کا ایکسرے، سر کا الٹراساؤنڈ، ایکوکارڈیوگرافی)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

سینے کا ایکسرے، قبل از وقت پیدا بچوں میں سر کا الٹراساؤنڈ (حسب ضرورت)، اور دل کا ایکو (PDA اور دل کے نقائص)

یہ کیوں اہم ہے:

پھیپھڑوں، دماغ کی ساخت اور دل کی نالیوں کی حالت کی فوری تصویر کشی کرتا ہے۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے یا دل اور سانس کے مسائل والے بچے

آنکھوں کی آر او پی (ROP) اسکریننگ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

پردہ بصارت (ریٹینا) کی خون کی نالیوں کا معائنہ

یہ کیوں اہم ہے:

قبل از وقت پیدا بچوں کی آنکھوں کی بینائی کو محفوظ رکھنے کے لیے بر وقت اسکریننگ کرتا ہے۔

قبل از وقت اور کم پیدائشی وزن والے بچے، یونٹ پروٹوکول کے مطابق

ہڈیوں کی صحت (الکلائن فاسفیٹیز اور فاسفیٹ)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں الکلائن فاسفیٹیز اور فاسفیٹ کی سطح

یہ کیوں اہم ہے:

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ہڈیوں کی مضبوطی اور منرلز کی جانچ کرتا ہے۔

این آئی سی یو میں داخل قبل از وقت بچے

مسلسل مانیٹرنگ (Continuous Monitoring)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

دل کی دھڑکن، آکسیجن سیچوریشن (SpO2)، درجہ حرارت، اور بلڈ پریشر

یہ کیوں اہم ہے:

نازک نوزائیدہ بچوں کے اہم علاماتِ حیات پر 24 گھنٹے نظر رکھتا ہے۔

این آئی سی یو میں داخل تمام نوزائیدہ بچے

چھٹی سے قبل سماعت اور میٹابولک اسکریننگ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

ہسپتال سے چھٹی سے پہلے سماعت کی جانچ اور نوزائیدہ میٹابولک اسکرین

یہ کیوں اہم ہے:

یقینی بناتا ہے کہ گھر جانے سے قبل بچے کی سماعت اور میٹابولک ٹیسٹ مکمل ہوں۔

این آئی سی یو سے چھٹی کے وقت

پی آئی سی یو (بچوں کی انتہائی نگہداشت)

بڑے بچوں اور نوعمروں میں شدید بیماری
پی آئی سی یو (PICU) میں کون سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں؟

پی آئی سی یو میں شدید علیل بچوں کے لیے فوری اور تفصیلی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان میں بلڈ گیس، لیکٹیٹ، شوگر اور مکمل الیکٹرولائٹس؛ سی بی سی، کلاٹنگ، گردے اور جگر کے ٹیسٹ؛ کلچرز، سی آر پی، پروکیلسیٹونن؛ دل کی جانچ (ای سی جی، ایکو، ٹروپونین)؛ ایکسرے، سی ٹی یا ایم آر آئی؛ دوروں کے لیے ای ای جی (EEG)؛ میٹابولک ورک اپ اور مسلسل مانیٹرنگ شامل ہیں۔

بلڈ گیس، لیکٹیٹ، شوگر اور مکمل الیکٹرولائٹس

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

بلڈ گیس، لیکٹیٹ، گلوکوز، اور مکمل نمکیات بشمول کیلشیم، میگنیشیم، فاسفیٹ

یہ کیوں اہم ہے:

جسم میں آکسیجن، ٹشوز کی گردش، شوگر اور ضروری کیمیائی نمکیات کی جانچ کرتا ہے۔

پی آئی سی یو میں داخل شدید علیل بچے

سی بی سی، کلاٹنگ، گردے اور جگر کے افعال

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون کے خلیات، کلاٹنگ اور گردے و جگر کی کارکردگی

یہ کیوں اہم ہے:

اہم اندرونی اعضاء اور خون کے جمنے کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے۔

طبی ضرورت کے تحت پی آئی سی یو کے مریض

بلڈ و دیگر کلچرز، سی آر پی اور پروکیلسیٹونن

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون اور جسمانی رطوبتوں کے کلچر اور انفیکشن کے مارکرز

یہ کیوں اہم ہے:

شدید بیکٹیریل انفیکشن کے جراثیم اور سوزش کی شدت کا پتہ لگاتا ہے۔

شدید انفیکشن یا سیپسس کے شبہ میں

ای سی جی، ایکو / پوکس (POCUS)، ٹروپونین یا بی این پی

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

دل کی ای سی جی، الٹراساؤنڈ ایکو، اور کارڈیک مارکرز

یہ کیوں اہم ہے:

دل کی دھڑکن کی رفتار، پمپنگ کی صلاحیت اور دل کے پٹھوں کی جانچ کرتا ہے۔

دل کی کارکردگی پر شکوک یا دوران خون کے مسائل میں

سینے کا ایکسرے؛ سی ٹی (CT) یا ایم آر آئی (MRI)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

ایکسرے، سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی امیجنگ

یہ کیوں اہم ہے:

سر پر چوٹ، دورے، فالج یا پھیپھڑوں کی خرابی کی تفصیلی تصاویر دکھاتا ہے۔

سر کی چوٹ، دورے، یا سانس کی شدید بیماری میں

ای ای جی (EEG - دماغی لہروں کا معائنہ)

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

دماغ کی برقی لہروں کا معائنہ

یہ کیوں اہم ہے:

دوروں اور بیہوشی یا تبدیل شدہ ہوش کی کیفیت میں دماغی لہروں کی جانچ کرتا ہے۔

دورے یا بے ہوشی و غنودگی کی حالت میں

امونیا، کیٹونز اور میٹابولک ورک اپ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

خون میں امونیا، کیٹونز اور میٹابولک کیمیکلز

یہ کیوں اہم ہے:

پیدائشی میٹابولک بیماریوں کے شدید اثرات کی فوری جانچ کرتا ہے۔

اگر کسی میٹابولک خرابی کا شبہ ہو

مسلسل ملٹی پیرامیٹر مانیٹرنگ

یہ ٹیسٹ کیا دیکھتا ہے:

دل کی دھڑکن، SpO2، بلڈ پریشر، پیشاب کا اخراج، اور لائنز

یہ کیوں اہم ہے:

بچے کی حالت اور تمام علاماتِ حیات کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلی نگرانی کرتا ہے۔

پی آئی سی یو میں داخل تمام مریض
انفرادی طبی رہنمائی

میرے بچے کو کن ٹیسٹوں کی ضرورت ہے؟

ہر بچے کی طبی تاریخ اور ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ بے جا ٹیسٹوں سے بچنے اور صرف ضروری تشخیصی معائنے کے لیے ڈاکٹر ظہور حسین دراز سے مشورہ کریں۔

کلینک اور معائنہ گاہ

کلینک کی تفصیلات اور مقام

گوگل میپس پر راستہ دیکھیں

کلینک کا پتہ

Medicare Superspeciality Hospital, Kaksarai, Karan Nagar, Srinagar, Jammu and Kashmir 190010

اوقاتِ کار

پیر تا ہفتہ: صبح 11:00 بجے تا شام 6:00 بجے

اتوار: صبح 11:00 بجے تا رات 8:00 بجے

والدین کے سوالات

طبی ٹیسٹوں سے متعلق عمومی سوالات

طبی دستبرداری (Medical Disclaimer)

یہ صفحہ صرف عام معلومات اور آگاہی کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور یہ باضابطہ طبی معائنے، تشخیص یا علاج کا نعم البدل نہیں ہے۔ اپنے بچے کے لیے ضروری ٹیسٹوں اور ادویات کا فیصلہ صرف ماہر اطفال کے معائنے کے بعد ہی کریں۔

آخری نظرثانی کی تاریخ: 2026-10-03

متعلقہ نگہداشت اور طبی وسائل